براہوی زبان

براہوئی زبان
براہوئی
Bráhuí
علاقہبلوچستان
نسلیتبراہوی، پروٹو دراوڑ
مقامی متکلمین
(2.2 ملین cited 1998)
پروٹو دراوڑ
پیرسو-عربک، لاطینی
رسمی حیثیت
منظم ازبراہوئی زبان بورڈ پاکستان، کاپ
Brahui-speakers by Pakistani District - 2017 Census
زبان رموز
آیزو 639-3

براہوئی ایک قدیم ترین زبان ہے، ہر نئے سیکھنے والے کے لیے یہ زبان بہت مشکل ثابت ہوتی ہے۔ یہ زبان بہت وسیع علاقے میں بولی جاتی ہے۔ کوئٹہ سے لیکر ایران کی سرحدوں تک اور حب چوکی تک یہ زبان بولی جاتی ہے۔ جیسے یہ زبان جتنے بڑے علاقہ میں بولی جاتی ہے اسی طرح یہ اتنی ہی غیر معروف ہے۔

ان مفروضوں سے ہٹ کر براہوئی زبان پر انگریزمستشرقین نے ابتدائی اور بہت اہم کام کیا ہے۔

براہوئی زبان پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاوہ افغانستان اور ایران کے کئی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں بھی براہوئی بولنے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ سندھ میں رہنے والے براہوئی خود کو "'بروہی"' جبکہ بلوچستان، افغانستان اور ایران میں براہوئی بولنے والے بلوچ کہلاتے ہیں۔

تاریخ

ماہرین لسانیات براہوئی زبان کی نسبت دراوڑی زبان کی طرف کرتے ہیں -اگرچہ دراوڑی زبان پاک و ہند کے وسیع رقبے میں بولی جاتی ہے - مگر ایسے تاریخی شواہد ملے ہیں جن سے اس امر کی نشان دہی ہوتی ہی کہ یہ زبان صرف برصغیر پاک و ہند تک ہی محدود نہیں تھی جیسا کہ‘ دراوڑی زبانیں ‘ (مطبوعہ روس) کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان زبانوں کی جڑیں اورالی آلتانی زبانوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اور فن لینڈ کی زبان پر پاے جاتے ہیں۔ دراوڑی زبان کی انیس بولیاں ہیں جن میں سے ایک براہوئی ہے، تقریباً پانچ لاکھ افراد یہ زبان بولتے ہیں۔ بعض علمائے لغت کا خیال ہے کہ براہوئی زبان مالیم اورتامل سے مماثلت رکھتی ہے۔ جبکہ بعض یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ براہوئی زبان دراوڑی زبان ایشاہ کے تمام زبانوں سے بھی زیادہ قدیم ہے

براہوئی زبان کا لسانی خاندان

براہوئی زبان کے لسانی خاندان کے حوالے سے محققین منقسم ہیں۔ اس حوالے سے نظریے اور سامنے آتے ہیں۔

  1. دراوڑی نظریہ
  2. پروٹو براہوئی
  3. انڈو یورپی یا ہند آریائی نظریہ
  4. تورانی یا الطائی نظریہ

اول الذکر نظریے کے خالق انگریز اور غیر زبان اور اہل زبان براہوئی شامل ہے مستشرقین ہیں۔ ان میں ڈاکٹر ارنسٹ ٹرمپ، بشپ کالڈویل، گرائرسن، ڈینس برے جولز بلاخ، ایم بی ایمینو، ٹی برو، ایم ایس انڈروف، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر شامل ہیں۔

2 نظریہ پروٹوبراہوئی راہوئی بولنے والے ماہر لسانیات کے مطابق براہوئی زبان پروٹو دراوڑ خاندان سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس نظریے مائر لسانیات میں نزیر شاکر براہوئی ،پروفیسر سوسن براہوئی ، پروفیسر افضل گل براہوئی براہوئی مراد صابر رودینی،اکرم آمل، شامل ہیں ۔ اس نظریے کے ماہرلسانیات براہوئی زبان کوپروٹو دراوڑی خاندان سے گردانتے ہیں۔ان کے خیال ہیں کے براہوئی زبان سے ہی دیگر دراوڑی زبانیں جنم لی چکی ہے۔

3 تیسرا انڈو یورپی نظریہ یا مفروضہ میر گل خان نصیر،اثیر عبد القادر شاہوانی، آغا نصیر احمد خان احمد زئی میر عاقل خان مینگل، پروفیسر عبد اللہ جمالدینی متعارف کرایا ہے۔

4 توارانی یال الطائی آغا نصیر احمد خان احمد زئی اس حوالے سے ان کے علاوہ کوئی بھی اس پر متفق نہیں ہے۔کیون کے ان کے مفروضہ علمی لسانی روابط سے خالی ہے

براہوئی رسالہ جات ،ایلم ،استار ،مہر ،دے ٹک ،براہوئی ،تلار

براہوئی زبان میں فی الوقت کئی رسالے و جرائد شائع ہو رہے ہیں۔ لیکن ایلم کے نام سے ایک ہفت روزہ 1960 سے مکمل تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ موجودہ دور میں تلار واحد معیاری اور زبان و ادب کا ترجمان جریدہ ہے۔ درجہ بالا کہ علاوہ ہفت روزہ تلار براہوئی زبان کا واحد ترجمان اخبار ہے جس میں براہوئی زبان و ادب کی ترجمانی جدید دور کے عین مطابق کی جاری ہے جو باقاعدہ شائع ہو رہا "تلار" کا ویب ورژن بھی ہے جو "تلار ویب" کے نام سے موجورہے۔تلار " اخبار کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ دنیا کا واحدروزنامہ براہوئی اخبار ہے

براہوئی زبان میں پوری دنیا سے اولین اورمستند اخبار ایلم ،ماہ نامہ استار،ماہ نامہ مہر ، پڑو کے نام سے شائع ہورہے ہیں ۔

حروف تہجی

B á p í S Y ş V X E Z ź ģ F ú M N L G c T ŧ R ŕ D O ð h J K A I U ń ļ

نزیر شاکر براہوئی