بھوٹان

  
بھوٹان
بھوٹان
پرچم
بھوٹان
نشان

Bhutan on the globe (Bhutan centered).svg
 

شعار
(انگریزی میں: Happiness is a place
ترانہ:  تھنڈر ڈریگن کی مملکت 
زمین و آبادی
متناسقات  
پست مقام
رقبہ
دارالحکومت تھمپو 
سرکاری زبان زونگکھا 
آبادی
حکمران
طرز حکمرانی آئینی بادشاہت 
اعلی ترین منصب جگمے کھیسر نامگیال وانگچوک 
سربراہ حکومت لوتے شیرنگ 
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 8 اگست 1949 
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر
شرح بے روزگاری
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+06:00
بھوٹان وقت 
ٹریفک سمت بائیں 
ڈومین نیم bt. 
سرکاری ویب سائٹ
آیزو 3166-1 الفا-2 BT 
بین الاقوامی فون کوڈ +975 

بھوٹان (Bhutan) (تلفظ: /bˈtɑːn/; زونگکھا འབྲུག་ཡུལ Dru Ü، جنوبی ایشیا کا ایک چھوٹا اور اہم ملک ہے۔ یہ ملک چین اور بھارت کے درمیان میں واقع ہے۔ اس ملک کا مقامی نام درک یو ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے 'ڈریگن کا ملک۔ یہ ملک بنیادی طور پر پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے صرف جنوبی حصہ میں تھوڑی سی ہموار زمین ہے۔ ثقافتی اور مذہبی طور سے تبت سے منسلک ہے، لیکن جغرافیائی اور سیاسی حالات کے پیش نظر اس وقت یہ ملک بھارت کے قریب ہے۔

جغرافیہ

بھٹان کا پہاڑ و میدانی نقشہ ــ
بھٹان کا موسمی نقشہ ــ
ھا وادی مغربی بھٹان میں ــ
گھنگکر ببویسم ــ

بھوٹان ایک پہاڑی ملک ہے ــ جو چین اور بھارت کے درمیان میں پایا جاتا ہے ــ

ملک کا شمالی حصہ مشرقی ہمالیہ کے گھاس کے میدانوں پر مشتمل ہے جس میں گلیشیرز کی چوٹیوں تک سب سے زیادہ بلندی پر انتہائی سرد آب و ہوا ہے۔ شمال میں زیادہ تر چوٹیاں سطح سمندر سے 7000 میٹر (23،000 فٹ) سے اوپر ہیں جبکہ بھوٹان کا بلند ترین مقام (جنگخار پوئنسم) 7،570 میٹر (24،840 فٹ) تک پہنچتا ہے ، جسے دنیا کا بلند ترین غیر چڑھنے والا پہاڑ کہا جاتا ہے۔ ملک کا سب سے نچلا مقام 97 میٹر (318 فٹ) پر ہے اور درنگمی چو وادی میں ہے جہاں دریا بھارت کے ساتھ سرحد پار کرتا ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں وادیوں کو برف سے بھرے دریاؤں سے پانی پلایا جاتا ہے ، جو مویشیوں کے لیے چراگاہ مہیا کرتا ہے جن کا انتظام چند ہجرت کرنے والے چرواہا کرتے ہیں۔

۔

نام

کچھ لوگوں کے مطابق بھوٹان سنسکرت کے لفظ بھو-ات تھان سے بنا ہے جس کا لفظی مطلب ہے اونچی زمین۔ کچھ کے مطابق یہ بھوت - انت (یعنی تبت کا خاتمہ) کی بگڑی شکل ہے۔ یہاں کے باشندے بھوٹان کو درک - یو (ڈریگن کا ملک) اور اس کے باشندوں کو درپکا کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بھوٹان کے کئی اور سابق نام بھی ہیں۔

تاریخ

سترھویں صدی کے آخر میں بھوٹان میں بدھ لوگوں کی اکثریت تھی۔ 1865 میں برطانیہ اور بھوٹان کے درمیان میں سنچل معاہدہ پر دستخط ہوا، جس کے تحت بھوٹان کی کچھ سرحدی زمین کے حصہ کے بدلے کچھ سالانہ فنڈنگ ​​کے معاہدے کیے گئے۔ برطانوی اثرات کے تحت 1907 میں وہاں بادشاہی نظام کی تشکیل ہوئی۔ تین سال بعد ایک اور معاہدہ ہوا، جس کے تحت برطانوی اس بات پر راضی ہوئے کہ وہ بھوٹان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے لیکن بھوٹان کی خارجہ پالیسی برطانیہ کی طرف سے طے کی جائے گی۔ بعد میں 1947 کے بعد یہی کردار بھارت کو برطانیہ کی طرف سے ملا۔ دو سال بعد 1949 میں بھارت بھوٹان معاہدے کے تحت بھارت نے بھوٹان کی وہ ساری زمین اسے لوٹا دی جو انگریزوں کے قبضے میں تھی۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کا بھوٹان کی خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی میں کافی اہم کردار رہا۔

Midori Extension.svg