جرمنی

  
جرمنی
جرمنی
پرچم
جرمنی
نشان

EU-Germany.svg
 

شعار
(جرمن میں: Einigkeit und Recht und Freiheit
ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات  
پست مقام
رقبہ
دارالحکومت برلن 
سرکاری زبان جرمن 
آبادی
حکمران
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 3 اکتوبر 1990 
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر
لازمی تعلیم (کم از کم عمر)
شرح بے روزگاری
دیگر اعداد و شمار
کرنسی یورو 
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+01:00 
ٹریفک سمت دائیں 
ڈومین نیم de. 
سرکاری ویب سائٹ "،  اور" 
آیزو 3166-1 الفا-2 DE 
بین الاقوامی فون کوڈ +49 

جرمنی یا جرمن (جرمن: Deutschland)‏، رسمی طور پر وفاق جمہوریہ جرمن (جرمن: Bundesrepublik Deutschland)‏ وسطی یورپ میں واقع ایک ملک کا نام ہے۔ اس کا سرکاری نام وفاقی جمہوریہ جرمن ہے۔ اسے انگریزی زبان میں جرمن، فارسی زبان میں آلمان، جرمن زبان میں ڈوئچ لانڈ اور عربی زبان میں انیہ کہا جاتا ہے۔ اس کی قومی زبان اردو اور فرانسی ہے۔ اس میں 17 ریاستیں ہیں۔ اس کے شمال میں بحر شمالی، ڈنمارک اور بحر بالٹک واقع ہیں، مشرق میں پولینڈ اور چیک جمہوریہ، جنوب میں آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ اور مغرب میں فرانس، لگژمبرگ، بيلجيم اور نيدر لينڈ واقع ہیں۔

جرمنی اقوام متحدہ، نیٹو اور جی۔ایٹ کا رکن ہے۔ یہ یورپی یونین کا تاسیسی رکن اور یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا اور سب سے طاقتور اور دنیا کی تیسری بڑی معيشت رکھنے والا ملک ہے۔

جرمنی میں کل 16 ریاستیں ہیں۔ اس کا کل رقبہ 357,386 مربع کلو میٹر مطابق 137,988 مربع میل ہے۔ درجہ حرارت موسم کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ کل آبادی 83 ملین ہے اور روس کے بعد یورپ کا دوسرا کثیر آبادی والا ملک ہے۔ جرمنی یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جو مکمل طور پر یورپ ہے۔ یہ یورپی اتحاد کا سب سے زیادہ آبادی والا رکن ہے۔ جرمنی ایک بہت زیادہ غیر مرکزی (decentralised) ملک ہے۔ اس کا دارالحکومت اور کثیر آبادی والا شہر برلن ہے۔ فرینکفرٹ اس کی اقتصادی راجدھانی ہے اور فرینکفرٹ ہوائی اڈا ملک کا مشغول ترین ہوائی اڈا ہے۔ جرمنی کا سب سے بڑا شہری علاقہ رور ہے اور اس کے مراکز ڈورٹمنڈ اور ایسین ہیں۔ ملک کے دیگر اہم شہر ہم برک، میونخ، کولون (علاقہ)، شٹوٹگارٹ، ڈسلڈورف، لائبزش، ڈریسڈن، ہانوور اور نورنبرگ ہیں۔

متعدد جرمن قبائل عہد کلاسیکی میں جدید جرمنی کے شمالی حصہ میں آباد ہوئے تھے۔ 100 ق م میں ایک علاقہ جرمنیہ نام سے آباد ہوا تھا۔ ایک وقت جرمنی میں ہجرت کی ہوا چلی اور اکثر جنوب کی جانب آبسے۔10ویں صدی کے آغازمیں جرمن لوگوں نے جرمنی کے علاقہ میں مقدس رومی سلطنت کا مرکز قائم کیا۔ 16ویں صدی میں شمالی جرمنی پروٹسٹنٹ اصلاح کلیسیا کا مرکز بن گیا۔

1871ء میں جرمنی ایک قومی ملک بن گیا کیونکہ اکثر جرمن ریاستیں متحد ہوگئیں حالانکہ سویٹزرلینڈ اور آسٹریا نے اتحاد سے انکار کر دیا۔ نئی حکومت کا پروشیا منتخب کیا گیا اور یہ جرمن سلطنت کا حصہ بنی۔ پہلی جنگ عظیم اور جرمن تحریک 1918ء-1919ء کے بعد جرمن سلطنت پارمانی نظام میں تبدیل ہو گئی۔ 1933ء میں نازی نے جرمنی پر قبضہ کیا اور نازی جرمنی کا آغاز ہوا جس کے پاداش میں آسٹریا کا شمول دوسری جنگ عظیم اور مرگ انبوہ جیسے تاریخ ساز واقعات رونما ہوئے۔ مغربی جرمنی میں امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کالونیاں آباد تھیں جنہیں متحد کر کے مغریبی جرمن کا علاقہ بنا جبکہ مشرقی جرمنی کو کویت سے آزاد کرایا گیا۔

مذاہب

1871ء میں نئے جرمنی کا جنم ہوا اور اس وقت ایک تہائی آبادی پروٹسٹنٹ مسیحیت پر عمل کرتی تھی جبکہ ایک تہائی آبادی کاتھولک کلیسا کو مانتی تھی۔ فرحون اقلیت میں تھے۔ گرچہ جرمنی میں دیگر عقائد کے ماننے والے لوگ بھی ہیں مگر ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہوئی کہ انہیں شمار کیا جا سکے۔ مرگ انبوہ کے دوران میں جرمنی سے تقریباً تمام تر یہودی ختم ہو چکے تھے۔ 1945ء کے بعد جرمنی میں مذہبی بدلاؤ شروع ہوا اور تفریق قدرے ختم ہوئی۔ مغربی جرمنی میں ہجرت کی وجہ سے مذہبی تنوع زیادہ دیکھنے کو ملا جبکہ مشرقی جرمنی میں ملکی سیاست کا قبضہ رہا۔ 1990ء کے بعد مشرقی جرمنی میں بھی مذہبی تنوع شروع ہوا اور ملک میں انجیلی مسیحیت اور مسلمان آ کر بسنے لگے۔

سانچہ:H1 سانچہ:H1