جنوبی افریقا

  
جنوبی افریقا
جنوبی افریقا
پرچم
جنوبی افریقا
نشان

ZAF orthographic.svg
 

شعار
(انگریزی میں: ǃke e: ǀxarra ǁke
ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات  
پست مقام
رقبہ
سطح سمندر
سے بلندی
دارالحکومت پریٹوریا
بلومفونٹین
کیپ ٹاؤن 
سرکاری زبان انگریزی،  افریکانز،  سوتھو زبان،  سوازی زبان،  تسوانا زبان،  ویندا زبان،  خوسائی،  زولو زبان 
آبادی
حکمران
طرز حکمرانی بالواسطہ جمہوریت 
اعلی ترین منصب سیریل رامافوسا 
سربراہ حکومت سیریل رامافوسا 
مقننہ جنوبی افریقا پارلیمان 
مجلس عاملہ حکومت جنوبی افریقا 
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 31 مئی 1910 
عمر کی حدبندیاں
شرح بے روزگاری
دیگر اعداد و شمار
کرنسی جنوبی افریقی رانڈ 
منطقۂ وقت 00 
ٹریفک سمت بائیں 
ڈومین نیم za. 
سرکاری ویب سائٹ
آیزو 3166-1 الفا-2 ZA 
بین الاقوامی فون کوڈ +27 

جنوبی افریقا (South Africa) رسمی طور پر جمہوریہ جنوبی افریقا (Republic of South Africa) براعظم افریقا کے جنوبی حصے میں واقع ایک ملک ہے۔ اس کے شمال میں نمیبیا، بوٹسوانا اور زمبابوے واقع ہیں۔ اس کے مشرق اور شمال مشرق میں موزمبیق اور سوازی لینڈ ہیں۔ یہ دنیا کا پچیسواں بڑا ملک اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 24واں بڑا ملک ہے۔ اس کی سرحدیں بحرِ اوقیانوس اور بحرِ ہند کے ساتھ 2,798 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔

جنوبی افریقہ کا سیاسی نظام

جنوبی افریقہ ایک پارلیمانی جمہوریہ ہے۔ لیکن دیگر ایسی جمہوریاؤں کے برعکس یہاں صدر ہی ریاست و حکومت دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ جسے پارلیمنٹ کا ایوانِ زیریں پانچ سال کے لیے منتخب کرتا ہے لیکن اس دوران میں پارلیمنٹ کے عدم اعتماد کی صورت میں معزول کیا جا سکتا ہے۔

انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ آئین کی بالادستی کے تابع ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ پارلیمنٹ کے غیر آئینی اقدامات اور کارؤائیاں ختم کر سکتی ہے۔

اولین آبادکار

جنوبی افریقہ میں سب سے پہلے سان قبائل سے تعلق رکھنے والا گروہ داخل ہوا۔ یہ لوگ اس سے پہلے بوٹسوانا، نمیبیا، انگولا، زیمبیا اور زمبابوے میں آباد تھے۔ سان قبائل کے بعد 2000 قبل از مسیح کے قریب خوئی خوئی (Khoikhoi) نام کا ایک گروہ جنوبی افریقا میں داخل ہوا۔ دونوں قبائل نے مل کر رہنا شروع کیا جس کی بنا پر ان دونوں کو خویسان (Khoisan) کا نام دیا گیا۔ ان کی آپسی پہچان یہ تھی کہ سان قبیلہ شکار کرتا تھا جبکہ خوئی خوئی چرواہے تھے اور جانور پالتے تھے۔

بانٹو قبائل

بانٹو قبائل نے تقریباً ایک ہزار قبل مسیح براعظم افریقہ کے مختلف حصوں میں پھیلنا شروع کیا۔ پہلی صدی میں بانٹو قبائل نے کانگو کی وادیوں سے نکل کر جنوبی افریقہ کا رخ کیا۔ بانٹو قبائل جنوبی افریقہ میں خوئی خوئی قبیلے کے علاقوں پر حملہ آور ہوئے اور انہیں شکست دے کر بنجر اور غیر آباد علاقوں کی طرف دھکیل دیا۔ زولو، زوسا، سوازی اور ندبیلی نام کے قبائل انہی کی نسل میں سے ہیں۔

جنوبی افریقا میں ولندیزیوں کی آمد

ہالینڈ کی ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1652 میں کیپ کے مقام پر اپنی کلونی قائم کی۔ مشرق کی طرف جانے والے تمام بحری جہاز یہاں رکتے پھر تجارتی مال لے کر افریقہ کا چکر لگاتے، اس کے بعد مشرقی ممالک کی طرف جاتے۔ خوئی خوئی قبائل نے ولندیزیوں سے تعاون نہ کیا، وہ ضرورت کی چیزیں بھی نہ دیتے۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہالینڈ سے کسان منگوا کر جنوبی افریقا میں بسا لیے۔ وہ کھیتی باڑی کرنے لگے جس سے ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کو ضرورت کی ہر چیز میسر ہونے لگی اور انہوں نے جنوبی افریقہ میں اپنے قدم جما لیے۔

جنوبی افریقا میں پرتگالیوں کی آمد

بارتولو رومیو دیاس نامی ایک پرتگالی ملاح 1488 میں یورپ اور مشرقی ممالک کے درمیان میں تجارت کے لیے بحری راستہ تلاش کرنے کے لیے جنوبی افریقہ کے ساحل پر پہنچا، مقصد براعظم افریقہ کے جنوب سے گزر کر ہندوستان پہنچنا تھا۔ جنوبی افریقا کے جس ساحل پر اس نے قیام کیا اس کا نام کابوداس ٹارمنٹس (طوفانوں کا ساحل) رکھا، اسی راستے سے واسکوڈے گاما ایک بحری بیڑے کے ساتھ ہندوستان پہنچا۔

کیپ کالونی پر برطانیہ کا قبضہ

ہالینڈ میں حکمران ولیم پنجم کے خلاف 1887 میں بغاوت ہوئی، جو ختم ہو گئی مگر اقتدار پر ولیم کی گرفت کمزور ہو گئی۔ 1894 میں فرانس نے ہالینڈ پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ولیم انگلستان بھاگ گیا۔ ان حالات میں برطانیہ میں مقیم ہالینڈ کے مفرور حکمران ولیم نے جنوبی افریقہ میں کیپ کالونی کی انتظامیہ کو خط لکھا کہ کالونی برطانیہ کے حوالے کر دی جائے۔ اس خط کے بعد ہالینڈ نے برطانیہ سے 60 لاکھ پونڈ وصول کرکے کالونی اس کے حوالے کردی۔ اس طرح 1815 میں جنوبی افریقہ کیپ کالونی پر برطانیہ کا قبضہ ہوگیا و41و۔