جنوبی سوڈان

جمہوریہ جنوبی سوڈان
Republic of South Sudan
پرچم جنوبی سوڈان
شعار: 
ترانہ: 
مقام جنوبی سوڈان
دارالحکومت
and largest city
جوبا
سرکاری زبانیںانگریزی
آبادی کا نامجنوبی سوڈانی
حکومتوفاقی صدارتی جمہوری جمہوریہ
• صدر
Salva Kiir Mayardit
Riek Machar
مقننہقومی مَجلِسِ قانُون ساز
ریاستی کونسل
قومی قانون ساز اسمبلی
آزادی 
• جامع امن معاہدہ
6 جنوری 2005
• حکومت جنوبی سوڈان
9 جولائی 2005
9 جولائی 2011
رقبہ
• کل
619,745 کلومیٹر2 (239,285 مربع میل) (بیالیس واں)
آبادی
• 2008 مردم شماری
8,260,490 (متنازع) (94 واں)
• کثافت
13.33/کلو میٹر2 (34.5/مربع میل) (214)
جی ڈی پی (برائے نام)2011 تخمینہ
• کل
$13.227 بلین
• فی کس
$1,546
کرنسیجنوبی سوڈانی پاؤنڈ (SSP)
منطقۂ وقتیو ٹی سی+3 (مشرقی افریقہ وقت)
ڈرائیونگ سائیڈدائیں
کالنگ کوڈ+211
آویز 3166 کوڈSS
انٹرنیٹ ایل ٹی ڈی.ss (رجسٹرڈ لیکن ابھی تک آپریشنل نہیں)

جنوبی سوڈان (عربی: جنوب السودان) اقوام متحدہ کا 193واں رکن ملک ہے۔ جنوری2011ء میں ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے سوڈان کے عوام نے جنوبی سوڈان کو ایک آزاد ملک بنانے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس کے بعد نو جولائی2011ءکو اسے پر امن طریقے سے باقاعدہ آزادی دی گئی۔ واضح رہے کہ جنوری کا ریفرنڈم 2005ء کے اس امن معاہدے کا حصہ تھا، جس کی بدولت عشروں سے جاری خانہ جنگی ختم ہوئی تھی۔ سوڈان کی حکومت کو امریکی اور مغربی دباؤ اور دھونس کے باعث ملک کی تقسیم قبول کرنا پڑی۔ سوڈان کی خانہ جنگی کے دوران یہاں بنیادی اقتصادی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا تھا تاہم جبہ اور خرطوم حکومتوں نے اب عہد کیا ہے کہ ماضی کے تمام تنازعات کے پر امن حل کے لیے دونوں ممالک اپنی بھرپور کوششیں کریں گے تاکہ وہاں ترقی کے راستے کھل سکیں۔ جنوبی اور شمالی سوڈان کو ابھی تک کئی اہم تنازعات پر سمجھوتہ کرنا ہے۔ ان میں سرحدی تنازعات کے علاوہ قدرتی وسائل کی تقسیم کے معاملات سرفہرست ہیں۔