عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام

عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام
International Union of Muslim Scholars emblem.png

مخفف آئی اے ایم ایس
تاریخ تاسیس 2004 
مقاصد فروغ اسلام
سربراہ احمد ریسونی 
احمد الریسونی
کلیدی شخصیات سلمان العودہ، یوسف القرضاوی
باضابطہ ویب سائٹ "

عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام (عربی: الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین) ایک اسلامی تنظیم ہے جس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے مسلم علما شریک ہیں۔ اس تنظیم کو سنہ 2004ء میں مشہور عالمی اسکالر علامہ یوسف القرضاوی کی دعوت اور سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔ اور 7 نومبر 2018ء کے بعد سے اس کی سربراہی یوسف القرضاوی کے بعد احمد ریسونی کر رہے ہیں۔ اس تنظیم میں اہل تشیع میں سے نائب محمد واعظ زادہ خراسانی اور اباضیہ میں سے نائب عمان کے مفتی عام احمد خلیلی ہیں۔ اس تنظیم کی پہلی تاسیسی کانفرنس لندن میں ہوئی تھی۔

پس منظر

عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام کی تشکیل 2004ء میں چند اصحاب علم و دانش حضرات کے ذریعہ ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے تھوڑے ہی عرصہ میں یہ تنظیم، عالم عربی اور عالم اسلامی کا سب سے بڑا اتحاد اور یونین بن گئی۔ پھر اس تنظیم میں مسلمانوں کے تمام فرقے اہل سنت والجماعت، اہل تشیع اور اباضیہ میں سے 90 ہزار سے زائد علما شامل ہو گئے۔ اسلام ویب سائٹ کے مطابق، اس تنظیم کی رکنیت ان تمام علما کے لیے عام اور کھلی ہے جو اسلامی اور شرعی علوم میں دینی جامعات اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوں، اسی طرح اتحاد ان لوگوں کی بھی رکنیت قبول کرتا ہے جو اسلامی علوم وفنون اور تہذیب وثقافت میں کوئی کردار رکھتے ہوں۔ اتحاد کی ویب سائٹ کے مطابق "اتحاد کا تعلق کسی ملک، فرقہ یا جماعت سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی ملک یا حکومت کی مخالفت کرتا ہے، بلکہ اتحاد تمام مسلمانوں اور اسلام کی بھلائی کے لیے ہر ممکن تعاون کی کوشش کرتا ہے"۔ علامہ یوسف القرضاوی اس اتحاد کے پہلے صدر اور سب سے نمایاں اور اہم شخصیت ہیں۔ علامہ قرضاوی کے مطابق "اتحاد، عرب ممالک کے درمیان مصالحت اور ثالثی کی کوششوں کے ذریعہ سیاسی کردار بھی ادا کرتا ہے، البتہ اس کا اولین ہدف اور بنیادی مقصد اسلامی امور ومسائل ہوتے ہیں۔

تعارف واہداف

اتحاد، دنیا بھر کے تمام مسلم علما کے لیے ایک کھلا ہوا اتحاد اور یونین پلیٹ فارم ہے، اس کا تعلق جامعات و یونیورسٹیوں کے شرعی علوم کے فارغین اور اسلامی شعبوں کے فاضلین سے ہے۔ اس تنظیم کے بہت ہی ٹھوس مواقف اور نمایاں خصوصیات واہداف ہیں جو اس اتحاد کو دیگر سے ممتاز بناتے ہیں، چند درج ذیل ہیں:

  • اسلام پسندی: یہ ایک خالص اسلامی اتحاد ہے، جو مسلم علما پر مشتمل ہے، اسلامی امور ومسائل کی خدمت کے لیے کام کرتا ہے، اسلام سے اس کے طریقہ کار اخذ کرتا ہے اور اپنے تمام مسائل میں اسی کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ مسلمانوں میں ان کے تمام مسلکوں اور فرقوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
  • عالمی: یہ نہ تو مقامی ہے نہ علاقائی، نہ عربی ہے نہ عجمی، نہ مشرقی یا مغربی ہے۔ بلکہ پوری اسلامی دنیا کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے، اسی طرح یہ اسلامی دنیا سے باہر اقلیتوں اور اسلامی جماعتوں کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔
  • مسلم قومی: یہ کوئی سرکاری تنظیم نہیں ہے، بلکہ اس کی طاقت عوام اور قوم کے اعتماد سے ہے۔ لیکن وہ حکومتوں کا مخالف بھی نہیں ہے، بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے ان کے ساتھ مل کر تعاون کی کوشش کرتا ہے۔
  • آزادی: اس کا تعلق کسی ریاست سے نہیں ہے، نہ ہی کسی فرقہ یا جماعت سے ہے، اس کا تعلق صرف اسلام اور مسلم امت سے ہے۔
  • علم: یہ اتحاد صرف مسلم قوم کے علما کی تنظیم ہے، لہذا لا محالہ یہ علم، تعلیم، تحقیق اور اس کے احیا اور عام کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
  • دعوت: یہ زبان وقلم اور موجودہ وسائل کے ذریعہ قرآن کی ہدایت، حکمت، موعظت اور ہر بہتر اسلوب کے ساتھ اسلام کی دعوت دینے پر توجہ دیتا ہے۔
  • وسطیت: یہ غلو وافراط اسی طرح تقصیر وتفریط سے دور رہتے ہوئے وسطیت اور اعتدال کی راہ کو اپناتا ہے۔
  • 'سرگرمی: یہ محض اشتہارات اور کانفرنسوں تک محدود نہیں رہتا ہے، بلکہ اس کا مقصد کام کرنا اور علمی وعملی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔

متنازع معاملات

فلسطین میں مسلح کارروائی

دی گارڈین برطانوی اخبار نے یوسف القرضاوی کو "متنازع اسلامی اسکالر" قرار دیا ہے۔ خاص طور سے اس کے بعد جب انھوں نے ایک بیان جاری کیا تھا کہ فلسطین میں غاصبین وقابضین کے خلاف خودکش دھماکے ضروری ہیں۔ بی بی سی کو انٹرویو کے دوران میں جب ان سے فلسطین میں خودکش حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھون نے کہا: "اسے خودکش حملہ نہیں کہا جا سکتا ہے بلکہ یہ خدا کی راہ میں شہادت ہے"۔ چونکہ قرضاوی اتحاد کے بانی اور سربراہ سمجھے جاتے ہیں اسی لیے ان کے بعض متنازع بیانات کی وجہ سے اتحاد کا نام بھی شامل کیا جاتا یے۔

اخوان سے تعلق

خبر رساں ادارے "روئٹرز" کے مطابق، اس اتحاد کے زیادہ تر ارکان کا تعلق اخوان المسلمون سے ہے۔ "لورینزو ویدینو" کے مطابق قرضاوی، اخوان کے روحانی پیشوا ہیں۔

یہود دشمنی

اسرائیلی ذرائع ابلاغ، اتحاد کے سابق سربراہ قرضاوی کو یہود کا دشمن گردانتے ہیں۔ "انسداد ہتک عزت لیگ" کے مطابق، قرضاوی نے بار بار یہودیوں کے قتل کا مطالبہ کیا ہے، جیسا کہ انھوں نے 9 جنوری، 2009 کو کہا تھا: "ہم انھیں آخری دن تک مارتے رہیں گے۔"

عورت کی جنسی زیادتی پر بیان

اتحاد نے ایک بیان جاری کیا تھا کہ جنسی زیادتی کی شکار عورت اگر شہوانی لباس پہنتی ہے تو گنہگار ہوگی۔ اس بیان کو عالمی میڈیا نے خوب اچھالا تھا۔

ہم جنس پرستی پر اتحاد کی رائے

شیخ قرضاوی نے اس بات پر زور دیا کہ ہم جنس پرستی کوئی انسانی فطری عمل نہیں ہے بلکہ یہ عمل فطرت سے عداوت ہے۔

دہشت گردی کا الزام

قطر کے بائیکاٹ کے خلیجی بحران کے دوران، بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک (سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین) نے عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام کو قطر کی حمایت کی وجہ سے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔