یوسف مستی خان

یوسف مستی خان
صدر Awami Workers Party
آغاز منصب
1 دسمبر 2018
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Fanoos Gujjar
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 16 جولا‎ئی 1948 (75 سال) 
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،  کارکن انسانی حقوق 

یوسف مستی خان (اردو: یوسف مستی خان ; 16 جولائی 1948ء - 29 ستمبر 2022ء) ایک پاکستانی سیاست دان تھے جو عوامی ورکرز پارٹی کے صدر تھے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

مستی خان 16 جولائی 1948ء کو کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی کے دو اسکولوں سے حاصل کی۔ انہوں نے مزید تعلیم آٹھویں جماعت تک برن ہالاسکول ایبٹ آباد سے حاصل کی۔ تین سال کے بعد، وہ واپس ائے اور کراچی گرامر اسکول اور سینٹ پیٹرک ہائی اسکول، کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کچھ عرصہ سندھ آرٹس کالج، کراچی میں تعلیم حاصل کی اور 1968ء میں گورنمنٹ نیشنل کالج، کراچی سے بی اے کی ڈگری مکمل کی۔

سیاسی جدوجہد

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن

مستی خان نے 1960 ءکی دہائی میں ایک طالب علم کی حیثیت سے سیاست کا آغاز کیا جب وہ سندھ آرٹس کالج کراچی میں زیر تعلیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شامل ہوئے اور بلوچ قوم پرست بن گئے۔ مستی خان نے بلوچ مارکسی رہنما لال بخش رند کے ساتھ کام کیا جنہوں نے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو ترقی پسند سیاسی تحریک میں تبدیل کیا۔

نیشنل عوامی پارٹی

مستی خان، لیاری میں رہتے ہوئے، لال بخش رند کے ساتھ نیشنل عوامی پارٹی (NAP) میں شمولیت اختیار کی اور لیاری کی بہت سی مثبت روایات کا مشاہدہ کیا جیسے سیکڑوں کم مراعات یافتہ بچوں کے لیے گلیوں میں شام کے اسکولوں کا آغاز۔ نیشنل عوامی پارٹی نے لیاری میں سیاسی بیداری، بلوچ ادب اور ثقافت کے فروغ میں مدد کی۔ بلوچستان میں رہتے ہوئے مستی خان نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کی زیر زمین سرگرمیوں میں حصہ لیا کرتے تھے۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

جب شیرباز خان مزاری نے 1975ء میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے قیام کا اعلان کیا تو مستی خان نے این ڈی پی کی مرکزی کمیٹی کے رکن کے طور پر شمولیت اختیار کی اور بعد میں، این ڈی پی (کراچی) کے صدر منتخب ہوئے۔ مستی خان نے ضیاء کی حکومت کی مخالفت کے لیے 6 فروری 1981ء کو تشکیل دی گئی تحریک برائے بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کے نام سے کثیر الجماعتی اتحاد میں بھی شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں مستی خان نے پاکستان نیشنل پارٹی ( پی این پ) (1983ء) میں اس کی مرکزی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی اور بعد میں پی این پی (کراچی) کے صدر بن گئے۔

نیشنل ورکرز پارٹی

1989ء میں، غوث بخش بزنجو کی وفات کے بعد، مستی خان کی قیادت میں، پاکستان نیشنل پارٹی نے عوامی جمہوری پارٹی میں ضم ہو کر نیشنل ورکرز پارٹی (پاکستان) بنائی۔ مستی خان نے نیشنل ورکرز پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ورکرز پارٹی پاکستان

کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی اور نیشنل ورکرز پارٹی 2010ء میں ضم ہو کر ورکرز پارٹی پاکستان بنی۔ مستی خان نے ورکرز پارٹی پاکستان کے نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ سندھ پروگریسو کمیٹی (ایس پی سی) کا حصہ تھے، جس میں ورکرز پارٹی، لیبر پارٹی، عوامی پارٹی اور دیگر بائیں بازو اور قوم پرست جماعتیں شامل تھیں۔ وہ سندھ بچاؤ تحریک کا بھی حصہ تھے۔

عوامی ورکرز پارٹی

2012ء میں جب عوامی ورکرز پارٹی کی تشکیل ہوئی تو مستی خان اس کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے 2016ء میں، مستی خان کو پارٹی کا سینئر نائب صدر منتخب کیا گیا۔

یکم دسمبر 2018ء کو پارٹی کے دوسرے صدر فانوس گجر کی موت کے بعد، مستی خان کا اے ڈبلیو پی کے تیسرے صدر کے طور پر اعلان کیا گیا۔ تب سے وہ پارٹی کے وفاقی صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اے ڈبلیو پی کے صدر کے طور پر، وہ زمینوں پر قبضے، زمینی اصلاحات کے مسئلے، ہاؤسنگ بحران، خواتین کے حقوق، طلبا کے حقوق، جبری مسائل، اقلیتی لڑکیوں کی مذہب کی تبدیلی، ، لاپتہ افراد، اور ملک کا معاشی بحران وغیرہ پر آواز بلند کرتے رہے۔۔ انہیں دسمبر 2021ء میں 'گوادر کو حق دو' (گوادر کو حقوق دو) کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرے میں گوادر کے لوگوں کے لیے انتہائی بنیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے گرفتار کر کے غداری کا الزام لگایا گیا تھا۔ گوادر، بلوچستان میں تحریک چلانے سے قبل مارچ 2021ء میں سندھ لٹریچر فیسٹیول میں ان کا سیشن منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اے ڈبلیو پی کی تیسری مرکزی کانگریس میں، وہ 12-13 مارچ، 2022ء کو لاہور میں دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔

مستی خان سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے سربراہ بھی تھے جو زمینوں پر قبضے کے خلاف 2015ء میں تشکیل دیا گیا تھا۔

مستی خان نے کراچی میں مقیم بلوچ حقوق کی تنظیم بلوچ متحدہ محاذ (بی ایم ایم) کے مرکزی رہنما کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

مستی خان کو جون، 2022ء میں اسلام آباد میں قائم بائیں بازو کی جھکاؤ رکھنے والی جماعتوں کے اتحاد یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے پہلے کنوینر کے طور پر منتخب کیا گیا، ۔

مستی خان جگر کے سرطان میں مبتلا ہونے کے بعد 29 ستمبر 2022 ءکو 74 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔