سمرقند

سمرقند ازبکستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور صوبہ سمرقند کا دار الحکومت ہے۔ سمرقند زمانہ قدیم سے چین اور مغرب کے درمیان شاہراہ ریشم کے وسط میں واقع اسلامی تعلیم اور تحقیق کے مرکز کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ آج بھی شہر میں واقع بی بی خانم مسجد اس کی اہم ترین عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔

سمرقند میں درجنوں خوبصورت مزار ہیں جن میں بادشاہ تیمور لنگ، ماہر فلکیات الغ بیگ اور قثم ابن عباس شامل ہیں۔ قثم جنھیں ازبکستان میں زندہ پیر کے نام سے جانا جاتا ہے وہ حضرت محمد کے چچازاد بھائی عباس کے بیٹے تھے اور اس علاقے میں انھوں نے ہی پہلے پہل اسلام سے لوگوں کو متعارف کرایا۔

"ریگستان" قدیم شہر کے مرکز میں واقع تھا۔ 2,750 سال قدیم اس شہر کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ سمرقند کی روٹیاں بہت مشہور ہیں اور یہاں آنے والے سیاح یہاں سے بڑی تعداد میں روٹیاں بطور تحفہ لے کر جاتے ہیں۔

وجہ تسمیہ

سمرقند کا نام قدیم فارسی کے الفاظ "اسمارا"، بمعنی پتھر یا چٹان اور "قند" بمعنی قلعہ یا قصبہ کا مرکب ہے، جس کا مطلب ہے چٹانی قلعہ۔

آبادی

1939ء میں سمرقند کی آبادی 1,34,346 تھی۔ 2008ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 596,300 ہے۔ زیادہ تر آبادی فارسی بولنے والے تاجکوں پر مشتمل ہے۔ بخارا کے ساتھ ساتھ سمرقند وسطی ایشیا میں تاجکوں کا ایک تاریخی مرکز ہے۔

جڑواں شہر

یہ شہر قدیم خراسان کے عظیم شہر تھے:

دیگر جڑواں شہر

ایوان تصویر