پیرو

  
پیرو
پیرو
پرچم
پیرو
نشان

PER orthographic.svg
 

شعار
(ہسپانوی میں: Firme y feliz por la unión
ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات  
بلند مقام
پست مقام
رقبہ
دارالحکومت لیما 
سرکاری زبان ہسپانوی،  آئیمارا زبان،  کیچوائی زبانیں 
آبادی
حکمران
طرز حکمرانی جمہوریہ 
مقننہ جمہوریہ پیرو کی کانگریس 
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 28 جولا‎ئی 1821 
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر
شرح بے روزگاری
دیگر اعداد و شمار
ہنگامی فون
نمبر
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت−05:00 
ٹریفک سمت دائیں 
ڈومین نیم pe. 
سرکاری ویب سائٹ
آیزو 3166-1 الفا-2 PE 
بین الاقوامی فون کوڈ +51 

جمہوریہ پیرو جنوبی امریکا کے مغرب میں واقع ایک ملک ہے۔ اس کے شمال میں کولمبیا، ایکواڈور، اور مشرق میں برازیل، جنوب مشرق میں بولیویا اور جنوب میں چلی واقع ہے۔ پیرو ایک کثیر التنوع ملک ہے پیرو میں مغرب میں بحر الکاہل کے ساحل اور بنجر میدان، شمال سے جنوب مشرق تک سلسلہ کوہ انڈیز کی پھیلی ہوئی چوٹیاں اور مشرق میں دریائے ایمیزون کے ساتھ دنیا کے طویل وعریض مشہور جنگلات ایمیزون برساتی جنگل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پیرو کی آبادی ۳۴ ملین یعنی تین کروڑ چالیس لاکھ ہے ، لیما سب سے بڑا شہر اور دار الحکومت ہے رقبہ کے لحاظ سے پیرو دنیا کا ۱۹ واں اور لاطینی امریکہ میں چوتھا بڑا ملک ہے۔ پیرو قدیم زمانے سے متعدد تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔نورتے چیکو تہذیب لاطینی امریکا کی سب سے قدیم تہذیب شمار ہوتی ہے جو ۳۵۰۰ قبل مسیح میں اس علاقے میں موجود تھی اور دنیا کے پانچ تہذیب کے گہواروں میں سے ایک ہے۔ مزید دیکھئے تہذیب کا گہوارہ۔ پیرو کی قدیم تاریخ میں اگر نظر دوڑائی جائے تو ناسکا سلطنت، واری سلطنت، تیواناکو سلطنت، انکا سلطنت اور کوزکو سلطنت کولومبی دور سے قبل کی مضبوط ترین سلطنتیں شمار ہوتی ہیں ہسپانوی سلطنت نے 16 ویں صدی میں اس علاقے کو فتح کیا اور پیرو میں نیابت سلطنت قائم کی جس نے اس کے بیشتر جنوبی امریکہ کے علاقوں کو گھیر لیا، اس کا دارالحکومت لیما میں تھا۔ 1551 میں لیما میں نیشنل یونیورسٹی آف سان مارکوس کے باضابطہ قیام کے ساتھ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کا آغاز ہوا۔ پیرو نے 1821 میں باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کیا۔ خوسے دے سان مارٹن اور سائمن بولیوار کی غیر ملکی فوجی مہموں اور آیاکوچو کی جنگ کے بعد پیرو نے 1824 میں اپنی آزادی مکمل کر لی۔ آنے والے سالوں میں، ملک پہلے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا یہاں تک کہ گوآنو نامیاتی کھاد کے استعمال کی وجہ سے نسبتاً معاشی اور سیاسی استحکام کا دور شروع ہوا۔ بعد میں، چلی کے ساتھ بحرالکاہل کی جنگ (1879–1884) نے پیرو کو بحران کی حالت میں لا کھڑا کیا، جہاں سے سولسٹا پارٹی کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 20 ویں صدی میں، ملک نے بغاوتوں، سماجی بدامنی، اور اندرونی تنازعات کے باوجود استحکام اور اقتصادی ترقی کے ادوار کو طے کیا۔ ۱۹۹۰ میں البرٹو فوجی موری نے فوجی موری ازم کے سیاسی نظریہ کے تحت نیو لبرل معاشی خاکہ متعارف کرایا جس نے پیرو کی سیاسی زندگی میں پہلی مرتبہ شخصیت پرستی کے عنصر کو مہمیز کیا۔

اشتقاقیات

لفظ پیرو اصل میں سان میگوئل خلیج کے لوکل حکمران بیرو سے نکلا ہے جو سولہویں صدی عیسوی میں ان علاقوں کا حکمران تھا

تاریخ

عہد قدیم

تقریبا 12500 قبل مسیح سے پیرو میں انسانی آبادی کے اثرات ملتے ہیں انڈین Andean اقوام او اکا پری ایٹا علاقے میں آباد تھیں جن کی معیشت کا دارومدار زراعت، اونٹ پالنے اور ماہی گیری پر تھا۔

نوآبادیاتی دور

دسمبر ۱۵۳۲ عیسوی میں فرانسسکو پیزارو نے سلطنت انکا کے آتاوالپا کو کاخامارکا کی جنگ میں شکست دی اور پیرو پر قبضہ کر لیا۔

جنگ آزادی

انیسویں صدی عیسوی کے ابتداء میں جنوبی امریکائی اقوام نے تحریک آزادی کی کوششوں کو مزید تیز کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ ۲۸ جولائی ۱۸۲۱ میں ارجنٹینی جنرل سان مارٹن نے لیما شہر کو ہسپانوی قبضہ اقتدار سے چھڑوا کر پیرو کی آزادی کا اعلان کر دیا اور پیرو کا نیا جھنڈا بھی بنایا ۔ اگلے چند سالوں میں دیگر علاقے فتح کر کے پیرو کو مکمل طور پر ہسپانوی قبضہ سے آزاد کر لیا۔

انیسویں صدی عیسوی

رامون کاستلیا کے صدراتی دور میں ۱۸۴۰ عیسوی سے ۱۸۶۰ عیسوی تک پیرو امن وامان اور سیاسی استحکام اور خوشحالی کے دور سے گزرا۔ ۱۸۷۹ عیسوی سے ۱۸۸۴ عیسوی تک ہونے والی بحرالکاہل کی جنگ میں پیرو نے چلی کے خلاف بولیویا کی حمایت کی۔ اور یہ جنگ چلی کی جیت پر ختم ہوئی۔ جس میں پیرو کی شدید معاشی دھچکا لگا جس کی بحالی میں کئی سال لگ گئے۔

بیسویں صدی عیسوی

بیسوی صدی عیسوی میں حکومت کے جنگ سے بحالی پروگرام سے کچھ معاشی خوشحالی دیکھنے میں آئی اور آگوستو برناردینو لیگیا نے اقتدار سنبھالا۔ جو ۱۹۳۰ عیسوی میں کساد عظیم کی نظر ہوگیا۔ بیسوی صدی میں پیرو نے اپنے ہمسایہ ملک کولومبیا اور ایکواڈور کے ساتھ علاقائی تقسیم کی تنازع پر دو جنگیں لڑیں۔ ۲۹ اکتوبر ۱۹۴۸ عیسوی میں فوجی ڈکٹیٹر مینوئل ارتورو اودریا نے فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اور ملک کا ۴۵ ویں صدر بن گیا۔ لیکن ۱۹۷۵ عیسوی میں جمہوریت دوبارہ بحال ہو گئی۔ ۱۹۹۰ میں البرتو فوخی موری نے اقتدار سنبھالا اور ۲۰۰۰ میں استعفی دے دیا۔

اکیسویں صدی عیسوی

۲۰۰۱ ء سے ۲۰۰۶ ء تک آلخاندرو تولیدو نے انتخابات جیت کر حکومت کی۔ ۲۰۰۶ ء کے انتخابات میں کامیاب ہو کر نئے صدر آلان گارسیا نے اقتدار سنبھالا ۔ ۲۰۰۸ ء میں پیرو جنوب امریکی ممالک کی یونین کا ممبر ملک بنا۔ ۲۰۰۹ ء میں البرتو فوخی موری کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ۲۵ سال کی قید کی سزا ہوئی۔ ۲۰۱۱ ء میں اویانتا اومالا کا انتخاب ہوا لیکن وزیر اعظم انا خارا نے اس کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ختم کر دیا۔ ۲۰۱۶ ء میں پیدرو پابلو کوچنسکی نے اقتدار سنبھالا ۔ لیکن اس نے ۲۰۱۸ ء میں مختلف تنازعات کی وجہ سے اقتدار سےا ستعفی دے دیا۔ اور نائب صدر مارتن وزکارا نے اقتدار سنبھالا ۔ ۲۰۱۹ ء کے انتخابات میں مینوئل میرینو نے اقتدار سنبھالنے کے صرف پانچ دن کے بعد استعفی دے دیا اور فرانسسکو ساگاستی نے اقتدار اپنے ہاتھو میں لیا۔ اور ۲۰۲۱ ء میں انتخابات ہوئے جس میں پیدرو کاستیلیو کا مقابلہ کے ایکو فوخی موری کے ساتھ تھا۔ اور پیدرو کاستیلیو کی کامیاب کے بعد وہ ملک کے ۱۳۰ ویں صدر منتخب ہوئے۔

آئین، حکومت اور سیاست

پیرو کا حکومتی نظام صدارتی ہے اور آئین کثیر سیاسی احزاب کے قیام کی اجازت دیتا ہے۔ ۱۹۹۳ کے آئین کے مطابق ملک میں لبرل جمہوری نظام قائم ہوگا۔ پیرو حکومت تین حصے پر مشتمل ہے۔ ۱۔ مقننہ جس میں پیرو کانگرس شامل ہے جس کے ۱۳۰ اراکین ہوتے ہیں ۔ ۲۔ انتظامیہ ، جس میں صدر، وزراء کی کابینہ اور وزیراعظم ہوتے ہیں۔ ۳۔ عدلیہ ، جس میں ۱۸ ججز پر مشتمل عدالت عظمی, ۲۸ اعلیٰ عدالتیں ، ۱۹۵ ٹرائل کورٹس اور ۱۸۳۴ ضلعی عدالتیں شامل ہیں۔

انتظامی تقسیم

پیرو ۲۶ یونٹس پر مشتمل ہے۔ ۲۴ صوبے (ڈپارٹمنتس) ، کایاو کا آئنی صوبہ اور صوبہ لیما۔ مزید دیکھئے: پیرو کے علاقہ جات

افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے

پیرو کی فوج لاطینی امریکا کی چوتھی بڑی فوج ہے جو بری فوج، بحری فوج اور فضائیہ پر مشتمل ہے۔ افواج کی افراد قوت ۳۹۲۶۶۰ ہے جن میں سے ۱۲۰۶۶۰فعال اور ۲۷۲۰۰۰ غیر فعال ہیں ۔

بین الاقوامی تعلقات

پیرو کے کئی دہائیوں سے ریاست ہائے متحدہ اور ایشیا کے ساتھ اچھے قائم ہیں اور پیرو عالمی سطح پر مختلف تجارتی اور ثقافی تنظیموں کا ممبر ملک بھی ہے۔

معیشت

پیرو مساوی قوت خرید کے لحاظ سے ۴۸ واں بڑا ملک ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ۲۰۰۰ میں تیز ترین ترقی کرنے والے ممالک میں سے پیرو شامل تھا۔

آبادیات

بڑے شہر اور قصبے

پیرو کے بڑے شہروں اور قصبے میں
۱۔ دار الحکومت لیما،
۲۔ارے کیپا
۳۔ترو خویو
۴۔چکلایو
۵۔اوآنکایو
۶۔ایکی توس
۷۔ پیورا
۸۔ کوزکو
۹۔ چمبوتے
۱۰۔ تاکنا شامل ہیں۔

آبادی

۲۰۱۷ ء کی مردم شماری کے مطابق پیرو کی آبادی ۳ کروڑ اور دس لاکھ ہے اس طرح پیرو جنوبی امریکی ممالک میں آبادی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آتا ہے۔

نسلی گروہ

پیرو کثیر النسل آبادی والا ملک واقع ہوا ہے جس میں مختلف اقوام کے باشندے آباد ہیں، پیرو کے باشندوں میں ۶۰ فیصد مستیسو ، ۲۲ فیصد کیچوائی، ۶ فیصد سفید، ۳۔۶ فیصد سیاہ ، ۲۔۴ فیصد اےمارا اور دیگر اقوام شامل ہیں۔

زبانیں

اوسامبیلا کا گھر، لیما میں لسانیات کا تحقیقاتی مرکز

۱۹۹۳ کے آئین کے مطابق میں پیرو کی سرکاری زبان ہسپانوی ہے جبکہ ہسپانوی کے علاوہ کیچوائی زبانیں ، آئیمارا زبان اور دیگر زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ البتہ ۸۲ فیصد آبادی ہسپانوی زبان ہی بولتی ہے۔

مذہب

پیرو کا مذہب عیسائیت ہے رومن کیتھولک فرقے کے ماننے والے سب سے زیادہ ہیں۔ ۲۰۱۷ کی شماریات کے مطابق ۷۶ فیصد لوگ خود کو کیتھولک شمار کرتےہیں ۱۴ فیصد انجیلی مسیحیت اور باقی ماندہ میں پروٹسٹنٹ ، یہودیت اور لادینیت کے پیروکار شامل ہیں۔

صحت

عالمی بینک کے ۲۰۱۶ میں شائع کردہ اعدادو شمار کے مطابق پیرو میں اوسطا متوقع زندگی ۷۵ سال ہے۔

تعلیم

قومی جامعہ سان مارکوس، لیما ، پیرو

۲۰۰۷ میں پیرو کی شرح خواندگی ایک اندازے کے مطابق ۹۔۹۲ فیصد تھی دیہاتی علاقوں میں ۳۔۸۰ فیصد جبکہ شہری علاقوں میں ۳۔۹۶ فیصد تھی۔ پیرو میں ابتدائی اور متوسط تعلیم مفت اور لازمی ہے۔ پیرو میں موجود سان مارکوس کا قومی جامعہ، نئی دنیا میں اعلیٰ تعلیم کے قدیم ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سان مارکوس، پیرو میں نیابت سلطنت کے دوران 12 مئی 1551 کو قائم کی گئی، براعظم شمالی اور جنوبی امریکہ کی پہلی باضابطہ طور پر قائم اور سب سے قدیم مسلسل کام کرنے والی یونیورسٹی ہے۔

ثقافت

پیرو کی ثقافت زیادہ تر قدیم مقامی رسوم و رواج اور یورپی طرز زندگی سے متاثر ہے التبہ افریقی اور ایشیائی ثقافت کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔

Midori Extension.svg